BREAKING NEWS

ہجرت فاٹما ظہر کی شہادت کا دن

ہجرت فاٹما ظہر کی شہادت کا دن
09 Feb
11:57

پیغمبر اسلام کا سورگواس ہوا اور ان سورگواس کو کچھ ماہ ہی گزرے چکے تھے لیکن حضرت فاطمہ جه़را (س) کا باپ سے دوری کا دکھ کم نہیں ہو رہا تھا، وہ اپنے والد کے غم میں بیمار ہو گئی تھیں.

وہ اس دن کے لئے بہت پریشانی سے انتظار کر رہا تھا جس کے والد نے وعدہ کیا تھا. پگماری اسلام (ص) نے اپنی موت کے وقت ان سے کہا: میری بیٹی! تم سب کے بعد مجھے سب سے پہلے ملیں گے. اپنی زندگی کی آخری رات میں حضرت فاطمہ جه़را (ص) نے خواب میں اپنے والد کو دیکھا کہ وہ کہہ رہے ہیں: میرے پاس آ جا میری بیٹی میں تجھے دیکھنے کے لئے بہت بے چین ہوں. جواب میں حضرت فاطمہ جہرا نے کہا، “اللہ جانتا ہے کہ میں تم سے زیادہ بے حد ہوں.” پاممری اسلام (ایس) نے خواب میں فاطمہ جہرا (ایس) کو بتایا کہ آپ آج رات میرے پاس آئیں گے.

حضرت فاطمہ جه़را (ص) نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے شوہر حضرت علی علیہ السلام کو اپنے پاس بلایا، حضرت علی کی آنکھوں سے آنسو جاری تھا اسی حالت میں وہ حضرت فاطمہ جه़را (ص) کے پاس پہنچے تو انہوں نے حضرت علی علیہ السلام سے نے کہا: میری زندگی صرف چند لمحات ہے، میں کچھ مرضی کرنا چاہتا ہوں. حضرت علی نے کہا: اس شخص کو بتاؤ جو دل میں ہے. یہ کہہ کر، حضرت علی علی ساسم ان کے سامنے بیٹھا. حضرت فاطمہ جه़را (ص) نے کہا: آپ نے کبھی مجھ سے جھوٹ نہیں سنا اور نہ ہی برائی دیکھی ہے اور جب سے میں نے آپ کے ساتھ مل کر زندگی شروع کیا، آپ کی کسی بات کی مخالفت میں نے نہیں کیا. حضرت علی نے کہا: خدا کی سوگدھ، تمہیں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، آپ اس سے کہیں بہتر، خدا سے ڈرنے والی عظیم اور پرعزم ہو کہ میں تم میں کمی نكالو، آپ سے دوری میرے لئے بہت بھاری ہے، تمہیں کھو دینا میرے لئے اےےسا میرے لئے کوئی اداس نہیں ہے، دردناک اور تکلیف دہ ہونے سے زیادہ دردناک درد ہے. خدا کی محبت! یہ ایسی اداس ہے کہ مجھے ماتم کرنے میں طاقت نہیں رہتی ہے، اور اس کے لئے کوئی بھی معاوضہ نہیں دے سکتا. یہ کہتے کہتے حضرت علی علیہ السلام کی آنکھیں پھر چھلک آئیں اور پھر دونوں رونے لگے پھر حضرت علی علیہ السلام نے کہا: فاطمہ جو کہنا چاہتی ہو کہو میں تمہاری ہر بات پر عمل کروں گا. حضرت فاطمہ جه़را (ص) نے کہا: “جن لوگوں نے میرے ساتھ ناانصافی کی ہے اور میرے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے انہیں میری جنازے پر مت آنے دینا، وہ میرے دشمن اور پیغمبر اسلام کے دشمن ہیں، وہ میری نماز میت میں بھی حصہ نہ جب آنکھ رات کو نیند آتی ہے، تو لے لو، تم مجھے دفن کرو گے. ”

رات کے اندھیرے میں مدینہ کا شہر سورج تھا، ہر طرف ایک گنہگار تھا، جیسے پورے ماحول میں ماتم. حضرت علی اکیلے تھے، بچوں کو پریشانی ہوئی تھی. حضرت علی، حضرت فاطمہ جہاد (ص) کی آخری منزل پر جا رہے تھے. اپنے والد کے غم میں ڈوبی حضرت فاطمہ جه़را (ص) نے بہت ظلم برداشت کیے تھے، بڑا ناانصافی دیکھا تھا اور اب ٹوٹا ہوئے پسلیوں کے ساتھ، اپنے باپ کے پاس جانے کے لئے آخرت سدھار چکی تھیں. حضرت علی اس عظیم شخص کو رات کے اندھیرے میں دفن کرنے کے لئے لے رہے تھے، جو پوری دنیا کی خواتین کے لئے مثالی ہے.

حضرت فاطمہ جه़را (س) پیغمبر اسلام کی وہ بیٹی تھیں جنہیں ان کے والد، مانوروپ میں فرشتہ کہا کرتے تھے اور كهتے اے پھاتےما! خدا نے آپ کو منتخب کیا اور اس نے آپ کو مقدس بنایا، پوری دنیا کی عورتوں پر آپ کی ترجیح دی. اسی طرح پیغمبر اسلام نے کہا کہ جو بھی فاطمہ سے احترام رکھے گا وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا اور جو ان سے دشمنی رکھے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے. تاریخ میں لکھا ہے کہ جب بھی حضرت فاطمہ جه़را (ص) اپنے باپ کے پاس جاتی تھیں وہ کھڑے ان کا استقبال کرتے، ان کا ماتھا چومتے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اس جگہ بٹھاتے جہاں وہ خود بیٹھے ہوتے اور جب بھی کسی سفر سے واپس ان سب کو آنے سے پہلے اپنی بیٹی کے پاس گیا اور اس کے حلق کو چوما اور کہا کہ میں فاطمہ سے جنت کی خوشبو محسوس کرتا ہوں. اسی طرح سفر پر جانے سے پہلے پیغمبر اسلام سب سے آخر میں اپنی بیٹی سے ملتے جب لوگوں نے پیغمبر اسلام سے یہ پوچھا کہ آپ کسے سب سے زیادہ چاہتے ہیں؟ تو وہ ہمیشہ یہی جواب دیتے، اپنی بیٹی فاطمہ کو.

« »

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *